حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمن علمائے یمن نے اسلامی مقدسات کو نشانہ بنانے سے متعلق شیخ الازہر کے بیان کو یمنی عوام پر بے بنیاد الزام قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انجمن نے کہا کہ بیان جاری کرنے سے پہلے یمن کا مؤقف معلوم نہیں کیا گیا۔
انجمن علمائے یمن نے اپنے بیان میں کہا کہ شیخ الازہر کے بیان میں یمنی عوام پر بڑا الزام لگایا گیا ہے، جسے انجمن نے صریح بہتان اور جھوٹی گواہی قرار دیا۔ انجمن نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ یمن کی جانب سے اسلامی مقدسات کو نشانہ بنانے کے دعوے کو قبول کر لیا گیا، جب کہ اس معاملے کی مکمل تحقیق نہیں کی گئی اور صنعا سے رابطہ کرکے یمنی فریق کا مؤقف بھی نہیں سنا گیا۔
انجمن علمائے یمن نے کہا کہ شیخ الازہر کے لیے زیادہ مناسب تھا کہ وہ سعودی حکومت کو یمن پر حملے اور محاصرے ختم کرنے کی نصیحت کرتے، نہ کہ اس کے الزامات کو قبول کرتے۔ انجمن نے مطالبہ کیا کہ بیان واپس لیا جائے تاکہ اس کی ذمہ داری سے متعلق معاملہ درست کیا جا سکے۔
بیان میں سعودی حکومت کی جانب سے یمن میں ہونے والے قتل و غارت اور شہری تنصیبات پر حملوں کے بارے میں بھی سوال اٹھایا گیا۔ انجمن نے کہا کہ ان واقعات کی مذمت اور ان کے ذمہ داروں سے جواب طلب کیا جانا چاہیے، نہ کہ یمنی عوام پر الزامات عائد کیے جائیں۔
انجمن کے مطابق، سعودی حکومت اسلامی ملکوں اور ان کے علماء کو اس تنازع میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسلامی مقدسات کو یمن پر حملوں اور محاصرے کو مذہبی رنگ دینے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یمن پر حملے کا اعلان واشنگٹن سے کیا گیا تھا اور انجمن اسے امریکی و صہیونی منصوبے کا حصہ قرار دیتی ہے، جس کا مقصد اسلامی امت کی طاقت کو کمزور کرنا اور خطے کو نام نہاد ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے منصوبے کے لیے تیار کرنا ہے۔
انجمن علمائے یمن نے آخر میں کہا کہ یمنی عوام اور قیادت اختلافات کے حل اور فریقین کے درمیان مفاہمت کے لیے ہر اسلامی کوشش کا خیرمقدم کرتے ہیں، بشرطیکہ اس کا مقصد اللہ کی رضا اور انصاف کا قیام ہو، نہ کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کے مفادات کا تحفظ۔










آپ کا تبصرہ